رنگوں کی بھول بھلیاں   

تحریر: حافظ نعیم احمد سیال

       زندگی کے رنگ کتنے عجیب ہوتے ہیں۔ بندہ ان میں بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ زندگی کس موڑ پر کھڑی ہے۔ اور مزید کتنی تلخ صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے بار بار نہیں۔ مگر اس کے رنگ اتنے زیادہ ہیں کہ بندہ ان رنگوں کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ بعض دفعہ ہم اتنے مشکل وقت سے گزرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی فیصلہ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ زندگی کے یہی رنگ ہمارے ساتھ مختلف کھیل کھیلتے ہیں۔ اور یہ کھیل اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ بندہ ہار گیا ہے یا جیت گیا ہے۔

       زندگی کسے پیاری نہیں ہوتی۔ ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے۔ مگر جب یہ امتحان بن کر انسان سے کھیلنے لگتی ہے تو تب پتہ چلتا ہے کہ زندگی کیا ہے۔ جب دوسروں کی زندگی محسوس کرنے لگیں تو تب پتہ چلتا ہے کہ اصل زندگی یہ ہے۔ زندگی کے رنگ اس وقت بہت اچھے لگتے ہیں۔ اس لیے دوسروں کی زندگی محسوس کرنا سیکھیں۔

      وہ لمحات بہت اچھے ہوتے ہیں جب کوئی انسان ہار کر دوسروں کے جیتنے کا سبب بنتا ہے۔ کیوں کہ یہ احساسات انسان کو کامیاب کرتے ہیں اور ایک اچھا انسان بناتے ہیں۔ اور اچھا انسان اللہ کا پیارا ہوتا ہے۔

       اچھا بنیں اور زندگی کے رنگوں کو سمجھنا سیکھیں۔ اپنا خیال رکھیں۔ اللہ حافظ