تحریر: حافظ نعیم احمد سیال
انسان کے پاس اگر کچھ نہ ہو نا وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔ بعض لوگ تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ وہ اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں۔ مگر جب وہ کسی سے نہیں بولتے، ارد گرد لوگوں کی خبر نہیں رکھتے تو وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کی خبر گیری کرنے والا اور سب سے بولنے والا شخص ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے رنگ دیکھتا ہے اور ان سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ دوسروں میں اپنے آپ کو منواتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ دنیا میں میرا وجود بھی ہے۔ اسے اپنا وجود سب سے قیمتی لگتا ہے اور وہ اپنے وجود پر فخر کرتا ہے۔
اکیلے رہنے والے شخص کو زندگی اچھی نہیں لگتی، اسے دوسروں میں خامیاں نظر آتی ہیں۔ جس کی وجہ سے اسے اپنا وجود بھی برا لگتا ہے۔ وہ اپنے وجود میں منفی خیالات پیدا کرتا ہے۔ وہ اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے، دنیا کی ہر چیز اسے بے رنگ نظر آتی ہے۔ وہ ان بغیر رنگوں کی زندگی کو جی کر اپنا وقت گزار لیتا ہے۔ اور اس دنیا سے آخر کار چلا جاتا ہے۔
زندگی میں خوبصورت رنگ پیدا کریں۔ ان کو محسوس کریں۔ ہر کسی کے ساتھ بولیں، باتیں کریں تاکہ آپ کی زندگی میں بھی رنگ پیدا ہوں اور آپ اکیلے پن سے بھی بچ سکیں۔

0 Comments