تحریر: حافظ نعیم احمد سیال
وہ وقت میں کبھی نہیں بھولتا جب ابو جی ہاتھ پکڑ کر مجھے سکول لے جایا کرتے تھے، میری تین بہنیں تھیں میں سب سے بڑا تھا۔ حالاں کہ میں اب سمجھ دار تھا میری عمر کے بارہ سال بیت چکے تھے اس کے باوجود پھر بھی ابو جی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے سکول چھوڑ آتے اور واپس لینے کے لیے بھی وہی آتے۔ ابوجی کومجھ سے بہت محبت تھی وہ میرے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتے تھے وہ ہر وقت مجھے اپنی آنکھو ں کے سامنے رکھتے۔
اس دن شدید بارش تھی۔ بادلوں نے پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، بادل شاید خوب برسنے کے موڈ میں تھے اس لئے دل کھول کے برس رہے تھے میں سکول کے باہر کھڑا ابوجی کا انتظار کر رہا تھا۔ عام حالات میں بھی مجھے اکیلے آنے جانے کی اجازت نہیں تھی، ابو جی کی طرف سے یہ حکم تھا کہ جب تک وہ نہ آئیں میں سکول کے گیٹ پر کھڑا ہوکر ان کا انتظار کیا کروں مگر ایسے حالات میں جب بادل گرج رہے ہوں تیز بارش برس رہی ہو تو میں بالکل بھی اکیلا نہیں جا سکتا تھا ہر طرف پانی ہی پانی تھا سڑک پانی سے بھر چکی تھی مگر مجھے پکا یقین تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں ابو جی مجھے لینے ضرور آئیں گے آخر وہی ہوا ابو جی کو میں نے دور سے آتا ہوا دیکھ لیا تھا میرا جسم بارش کے پانی سے گیلا ہو چکا تھا، ابو جی کے ہاتھ میں چھتری تھی۔ انہوں نے چھتری کا سایہ میرے سر پر کر لیا۔
’’پتر تو ٹھیک تو ہے نا۔۔۔‘‘ ابوجی نے مجھ سے پوچھا۔
’’ہاں ابوجی میں ٹھیک ہوں‘‘۔ میں نے جواب دیا۔چھتری کا سایہ میرے سر پر تھا بارش کاپانی ابو جی کے اوپر گر رہا تھا وہ خود بارش سے بھیگتے رہے مگر مجھ پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ گرنے دیا، گھر پہنچنے تک ان کا جسم اور کپڑے مکمل بھیک چکے تھے۔
’’بیٹا تو کھانا کھالے میں کپڑے تبدیل کر لیتا ہوں۔‘‘ ابو جی نے مجھے کہا تو میں کچن کی طرف بڑھ گیا جہاں امی جان کھانا بنا رہی تھیں۔
امی جان نے مجھے دیکھا تو گلے سے لگا لیا انہوں نے کھانے کی ٹرے میرے آگے رکھ دی اور اپنے ہاتھوں سے نوالے توڑ توڑ کر مجھے کھلانے لگیں ابوجی کھانا کھا کر آفس چلے گئے وہ دوپہر کو میری خاطر ہی گھر آتے تھے تاکہ وہ مجھے سکول سے لے سکیں۔
زندگی کی بائیس بہاریں دیکھ لیں، پتہ ہی نہ چلا تینوں بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور اپنے گھروں کو جا بسیں اب میں صرف اکیلا تھا، تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے ایک آفس میں جاب مل گئی اچھی تنخواہ کی پیش کش ہوئی تو ابو جی نے اپنے دوست کی بیٹی سے میرا رشتہ کر دیا اس طرح میں بھی شادی شدہ ہو گیا۔
’’پتر اب یہ سب کچھ تیرا ہے تو نے ہی اس گھر کی گاڑی چلانی ہے، میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں میرے کندھوں میں اب اتنی سکت نہیں کہ کوئی بوجھ اٹھا سکوں، تیری ماں نے بھی تجھ پر بہت محنت کی ہے اب مجھ میں ہمت نہیں رہی اب تو ہی ہمارا سہارا ہے‘‘۔ ایک دن ابو جی مجھے کہہ رہے تھے۔
میں نے توجہ سے ان کی باتیں سنیں اور انہیں یقین دلایا کہ میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا آپ کا خیال رکھوں گا۔ ابوجی خوشی سے نہال ہو گئے اور ڈھیروں دعائیں دیں۔
شروع شروع میں تو میں نے ابو جی اور امی جان دونوں کا خیال رکھا مگر آہستہ آہستہ ان سے توجہ ہٹنے لگی انہوں نے اس بات کا احساس کبھی نہیں دلایا اور نہ ہی انہوں نے میرے اس رویہ کا برا منایا۔ ابوجی سے کیا ہوا وعدہ میں بھول چکا تھا۔ وقت گزر رہا تھا سو گزرتا گیا۔
******
سخت سردی کے دن تھے لوگوں کے لئے باہر نکلنا محال ہو رہا تھا کئی دنوں سے دھوپ نہیں نکلی تھی اوپر سے اتنی سخت بارشوں نے موسم کو اور بھی سرد کر دیا تھا میں آفس سے چھٹی کر کے گھر واپس آ رہا تھا مگر بارش اور شدید سردی کی وجہ سے آگے چلنا مشکل تھا میں سردی سے کانپ رہا تھا ایسے لگتا تھا اب موت کا فرشتہ آ کر رہے گا۔ میں کسی کی مدد کی انتظار میں تھا مگر سڑکیں اور گلیاں سنسان پڑی تھیں کوئی بھی شخص نہیں گزر رہا تھا میرا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا ایک انجانا سا خوف میرے جسم میں دور گیا اور میں نے آنکھیں بند کر لیں اس سے پہلے کہ میرا جسم برف بن جاتا میں نے اپنے اوپر ایک سایہ محسوس کیا بارش کے قطرے گرنے بند ہو گئے ایک گرم لحاف میرے جسم پر ڈال دیا گیا سردی یک دم کم ہوگئی۔ میں نے آنکھیں کھولیں چھتری کا سایہ میرے سر پر تھا ابو جی کا گرما گرم لحاف میرے جسم پر تھا۔
’’ابو جی آپ۔۔۔‘‘میرے منہ سے بمشکل نکلا۔
’’ہاں بیٹا بہت دیر ہو گئی تھی اوپر سے اتنی سخت بارش، تیری ماں بے چین تھی اس کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا کہہ رہی تھی میرا بیٹا ابھی تک نہیں آیا جاؤ جا کر دیکھو اسے کچھ ہو گیا تھا تو میں مر جاؤں گی بیٹا میرا بھی یہی حال تھا نیند بالکل بھی نہیں آرہی تھی اس لئے تیرا پتا کرنے چلا آیا‘‘۔ ابو جی کانپتے ہوئے بول رہے تھے ان کا جسم برف بنا ہوا تھا اور وہ سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور میں انہیں حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔
’’چلو بیٹا ‘‘ابوجی نے مجھے کہا اور آگے کی طرف بڑھ گئے میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے میں بارش کے پانی کے ساتھ ساتھ خود بھی شرمندگی سے پانی پانی ہو گیا ابوجی آگے بڑھ رہے تھے اور چھتری کا سایہ بدستور میرے سر پر تھا۔ میری نظریں شرم سے جھک گئی تھیں۔ اور میں اپنی ہی نظروں میں گر چکا تھا۔

0 Comments