تحریر: حافظ نعیم احمد سیال
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دوستوں کا ایک گروپ تھا۔ جس نے جنگل میں پیدل سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک خوبصورت راستے کے بارے میں سنا تھا، جوجنگل کے درمیان درختوں میں سے گزر کر ایک شاندار آبشار کی طرف جاتا تھا۔
آبشار کو دیکھنے کے لیے پرجوش دوست اپنی منزل کو پانے کے لیے صبح سویرے ہی روانہ ہوئے۔ انہوں نے آبشار کی طرف جانے والے راستے کا اندازہ لگایا اور چل پڑے، جب راستہ جنگل میں سے دوسری طرف مڑ گیا تو وہ درختوں اور جانوروں کی خوبصورتی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔
جب وہ چل رہے تھے تو دوستوں میں سے ایک جیک نامی ایک شرارتی نوجوان کو شرارت سوجھی، اس نے باقی دوستوں کو بے وقوف بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہاں ایک اور راستہ بھی ہے جو آبشار کی طرف جانے کی بجائے ایک ویران راستے کی طرف جاتا ہے تو اس نے باقی دوستوں کو اس راستے کی طرف لے جانے کا فیصلہ کیا۔
دوسرے دوستوں نے سمت میں تبدیلی کو محسوس نہیں کیا، اس طرح وہ سیدھا چلتے رہے، بالکل بے خبر کہ اب وہ صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ چلتے چلتے وہ سوچنے لگے کہ آبشار تک پہنچنے میں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے؟ وہ کئی گھنٹوں سے پیدل چل رہے تھے، اور انہوں نے ابھی تک آبشار کا کوئی نشان نہیں دیکھا تھا۔
اچانک انہیں احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ وہ بہت طویل وقت سے اس راستے پر چل رہے تھے، اور وہ بھٹکنے لگے تھے۔ گھبرا کر وہ واپس اسی راستے پر مڑ گئے جس سے وہ آئے تھے، اس امید پر کہ شاید صحیح راستہ مل جائے۔ لیکن جب انہوں نے تلاش کیا تو راستہ کہیں سے نہیں مل سکا۔
ابھی وہ امید چھوڑنے ہی والے تھے کہ انہوں نے پیچھے سے جیک کو زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے دیکھا، جو اس قدر ہنس رہا تھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
”تم کیوں ہنس رہے ہو؟“دوستوں نے حیران ہو کر پوچھا۔
”ہم راستہ کھو گئے ہیں اور یہ قہقہے لگا رہا ہے۔“ ایک دوست نے خفا ہو کر کہا۔
”اوہ! تم آبشار تلاش کر رہے ہو؟“جیک نے جواب دیا، پھر دانت نکال کر بولا۔ ”مجھے افسوس ہے، لیکن تم اسے کبھی نہیں ڈھونڈ پاؤ گے۔ تم نے دیکھا، تم سب جس راستے پر چل رہے ہو، وہ میری دادی کے گھر کا راستہ ہے۔ وہ سب سے بہترین ایپل جوس بناتی ہیں جسے تم لوگوں کو پلانا ہے۔
دوست جیک کی اس حرکت پر ناراض تھے، لیکن اب وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ وہ بہت زیادہ ہی بھٹک گئے تھے لیکن صورت حال دیکھ کر پھر اچانک ہی ہنس پڑے جیک نے اپنی حرکت پر ان سے معذرت کی۔ آخر میں انہوں نے آبشار کے بارے میں بھول جانے اور اس کے بجائے دادی کے لذیذ ایپل جوس سے لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ ہنستے ہوئے دادی کے گھر کی طرف چل پڑے۔

0 Comments