تحریر: حافظ نعیم احمد سیال
”ابو جان آگئے۔۔۔۔۔۔۔“ چوہا جیسے ہی گھر میں گھسا اس کے بچے اسے دیکھ کر چلانے لگے۔
”چپ کرو! پریشانی کے عالم میں گھر آتا ہوں اور یہ جناب مجھے دیکھ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔“ چوہے نے اپنے بچوں کو ڈانٹا تو وہ بیچارے سہم کر بیٹھ گئے۔
”کیا ہوا؟ آج بھی نوکری نہیں ملی؟“ چوہیا چوہے سے پوچھنے لگی۔
”نہیں سارا دن جنگل میں مارا مارا پھرتا رہا دوسرے جنگلوں میں بھی گیا لیکن کوئی نوکری دینے کو تیار ہی نہیں، سوچ رہا ہوں کل شیر بادشاہ کے پاس جاؤں اور اس سے التجا کروں ہو سکتا ہے اس کی سفارش سے کسی جگہ نوکری مل جائے۔“ چوہا بولا۔
” ہاں ٹھیک ہے، تم ایسے کرو مجھے امید ہے کہ بادشاہ شیر ہماری ضرور مدد کریں گے۔“ چوہیا بولی۔
اگلے دن چوہے نے تیاری کی اور شیر بادشاہ کے دربار پر پہنچ گیا۔
”کیا بات ہے؟ تم پریشان دکھائی دے رہے ہو۔“ شیر نے چوہے سے پوچھا۔
”بادشاہ سلامت! کیا کروں؟ آپ کی اور میری کہانی تو برسوں سے چلی آ رہی ہے انسان یہ کہانی پڑھ کر سبق حاصل کرتے ہیں کہ بھلائی کا بدلہ بھلائی ہوتا ہے۔ آپ کے پردادا نے میرے پردادا کے ساتھ بھلائی کی تھی پھر اس کا جواب بھی میرے پردادا نے آپ کے پردادا کو بھلائی سے دیا۔“ چوہا بولا۔
”کیا مطلب! پچھلے زمانے کے جانوروں کے قصے تم چھیڑ کر بیٹھ گئے ہو میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا۔“ شیر دھارا۔
”بادشاہ سلامت! ایک دن آپ کے پردادا جنگل میں سو رہے تھے میرے پردادا ان کی پیٹھ پر چڑھ کر ناچنے لگے جس سے ان کی آنکھ کھل گئی انہوں نے میرے پردادا کو غصے سے پکڑا اور جان سے مارنے کی کوشش کی مگر میرے پردادا نے یہ کہہ کر معافی مانگ لی کہ آج تم مجھے چھوڑ دو کل میں تمہاری کسی مصیبت میں کام آجاؤں گا چناں چہ ایسا ہی ہوا، کچھ دنوں بعد ایک ظالم شکاری نے آپ کے پردادا کو جال میں قید کر لیا اور پھر میرے پردادا نے اپنے دانتوں سے جال کاٹ کر آپ کے پردادا کی جان بچائی یعنی ثابت کر دکھایا کہ بھلائی کا بدلہ بھلائی ہوتا ہے۔“ چوہا ڈرتے ڈرتے بولا۔
”تو پھر میں کیا کروں؟“ شیر نے بے رخی سے جواب دیا۔
”بادشاہ سلامت میں چاہتا ہوں کہ اس کہانی کو دوبارہ دہرایا جائے اگر آپ میرے ساتھ بھلائی کر دیں تو ہو سکتا ہے کل میں بھی آپ کی کسی مصیبت میں کام آجاؤں۔“ چوہا اب اپنی بات پر آ ہی گیا تھا۔ شیر نے سوچا واقعی چوہا ٹھیک کہہ رہا ہے مصیبت اور پریشانیاں بتا کر تو نہیں آتیں اگر میرے پردادا کسی مصیبت میں پھنس سکتے ہیں تو میں بھی کسی وقت مصیبت میں پھنس سکتا ہوں یہ سوچتے ہی اس نے چوہے سے کہا۔ ”بولو کیا بات ہے؟ تم مجھ سے کون سی بھلائی مانگ رہے ہو؟“
”بادشاہ سلامت میں نے آر وائ پی تک تعلیم حاصل کی ہے بڑی محنت سے میں نے پڑھائی کی۔ والدین کی امیدوں کو پورا کیا مگر یہاں کی کمپنیوں کے مالک صلاحتیں دیکھنے کی بجائے رشوت اور سفارش مانگتے ہیں۔ میں نے تو سنا تھا کہ یہ برائیاں انسانوں میں پائی جاتی ہیں مگر یہاں تو جانور بھی اس برائی میں مبتلا ہیں۔میں ایک غریب جانور ہوں میرے چار بچے ہیں آپ کسی جگہ سے سفارش کرکے مجھے نوکری دلا دیجئے آپ کی مہربانی ہوگی۔“ چوہے نے التجا کی۔
”ٹھیک ہے میں تمہیں ایک پتہ دے رہا ہوں تم وہاں چلے جاؤ میں فون کردوں گا اور تمہیں نوکری مل جائے گی۔“ شیر نے چوہے کو ایک پتہ دیا اور چوہا شکریہ کہہ کر چلا گیا۔
کافی دن گزر گئے۔ شیر اس واقعےکو بھول گیا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا اس جنگل میں شیر بادشاہ کی مخالف پارٹی نے حملہ کر دیا اور اس نے شیر کی حکومت کو برطرف کرکے اپنی حکومت رائج کر لی۔ شیر شکست کھا گیا اور دوسرا شیر اس کی جگہ پر بیٹھ گیا اب پہلے والا شیر مارا مارا پھرنے لگا وہ کافی بوڑھا بھی ہو چکا تھا اس کے کمزور جسم میں جان بالکل نہیں تھی۔ ایک دن چوہا اپنی کار میں نوکری سے واپس آ رہا تھا تو راستے میں اس نے شیر کو نیم مردہ حالت میں پایا۔
”شیر بادشاہ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔؟“چوہے نے کار روکی اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔
”بادشاہ سلامت! آج بھی آپ میرے لئے وہی بادشاہ ہیں۔ میں آپ کو بادشاہ ہی کہوں گا اگر اس جنگل کی رعایا آپ کو بھلا چکی ہے تو کوئی بات نہیں میں آپ کو نہیں بھولا۔ آپ نے مشکل وقت میں میری مدد کی تھی آج میں آپ کی مدد کروں گا کیوں کہ بھلائی کا بدلہ بھلائی ہوتا ہے۔ آپ میرے گھر چلیں اور وہی رہیں میں آپ کا علاج کراؤں گا۔“ یہ سنتے ہی شیر کو سب کچھ یاد آ گیا اس کی آنکھوں سے بھی آنسو نکلنے لگے۔ چوہے نے شیر کو سہارا دے کر اٹھایا اور اپنی کار میں بٹھا کر کار چلا دی۔
شیر پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا سوچ رہا تھا واقعی بھلائی کا بدلہ بھلائی ہوتا ہے اگر میں نے چوہے کے ساتھ بھلائی نہ کی ہوتی تو آج میں سسک سسک کر مر جاتا مگر کیا کروں یہ تو ہمارے پرداداؤں کا پڑھایا ہوا سبق ہے اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی نہ کرتے تو پھر ہم کیا کرسکتے تھے۔ یہ سوچتے ہی شیر سو گیا جب کہ کار آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔

0 Comments