Header Ads Widget

Responsive Advertisement

عجیب فقیر



                         تحریر: حافظ نعیم احمد سیال

     عجیب فقیر تھا وہ۔۔۔۔۔!

     کیا اسے میرے ہوٹل سے مٹن، قورمہ، بریانی یا مرغ کڑاہی وغیرہ کے علاوہ دال چنے میں سے کچھ نہیں سوجھتا تھا۔ گزشتہ تین دن سے مسلسل میرے ہوٹل پر آ کر کھانا مانگ رہا تھا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا مانگنے کے ساتھ ساتھ اس کی یہ بھی عجیب و غریب شرط تھی کہ مندرجہ بالا چیزوں میں سے اسے جو بھی دیا جائے اس کا وزن ایک کلو ہو تاکہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا سکے۔ آج پھر اس نے میرے ہوٹل پر آ کر یہی رٹ لگانا شروع کر دی۔

     ”یہ فقیر ہے یا امیر۔۔۔۔۔؟“ میں نے دل میں سوچا۔ ”بابا ایسی خواہشیں تو وہ کرتے ہیں جن کی جیبیں ہرے ہرے نوٹوں سے بھری پڑی ہوں، تمہارے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے، چنے کے ساتھ روٹی کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔“ میں نے فقیر سے کہا۔

     ”منوں کے حساب سے تمہاری دکان پر گوشت پکتا ہے۔ روزانہ کتنی گائے، بکریاں اور مرغیاں تیرے اس ہوٹل کی خاطر ذبح ہوتی ہوں گی۔ اپنی جان کی قربانی دے کر تیرے ذریعے سے بڑے بڑے سیٹھوں کا نوالہ بنتی ہوں گی۔ بڑے بڑے شہزادے اور شہزادیاں تیرے ہوٹل میں آ کر کھانا کھاتے ہوں گے اور تو ان کی وجہ سے ہزاروں کماتا ہوگا بلکہ لاکھوں کماتا ہوگا اور پھر تو نے اس ہوٹل کا نام بھی تو رئیس ہوٹل رکھا ہوا ہے اگر تو رئیس ہے تو ایک کلو مٹن، قورمہ یا مرغ کڑاہی میں سے کچھ دیتے ہوئے تو کنگال نہیں ہو جائے گا۔“ فقیر مجھ پر برس پڑا۔ (اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے ہوٹل کا نام  واقعی رئیس ہوٹل تھا اور میں نے اپنے نام رئیس الدین پر ہوٹل کا نام رکھا ہوا تھا اب بےچارہ فقیر اس کا کوئی اور مطلب سمجھ رہا تھا تو میں کیا کرتا)

     ”بابا آج کل کے دور میں سوکھی روٹی بھی مل جائے تو اسے غنیمت سمجھا کرو جو چیزیں تو کھانے کو مانگ رہا ہے وہ تو نے کبھی خوابوں میں بھی نہیں کھائی ہوں گی حقیقت میں بھلا کیسے کھا سکتا ہے؟ دال چنے کھانے ہیں تو کھاؤ ورنہ روزانہ کی طرح اپنا راستہ ناپو۔“ میں نے فقیر کو ٹرخانے کی کوشش کی مگر وہ فقیر ہی کیا جو کسی ”رئیس“ کی بات مان لے اپنی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دے اور لکیر کا فقیر بھی نہ بنے۔ جھٹ بھولا۔

     ”چل تجھے اللہ کا واسطہ جو کچھ مانگ رہا ہوں کھلا دے تیری ماں جیے، تیرا باپ جیے تیرے سارے رشتے دار جئیں۔“ فقیر اب منت سماجت پر اتر آیا۔

     یہ تو واقعی عجیب فقیر تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غریب بھی تھا۔ وہ مجھے اللہ کا واسطہ دے رہا تھا اب میں کیسے انکار کرتا؟ اب تو مجھے ہر حال میں اسے کھلانا تھا بلکہ وہ چیزیں بھی دینی تھیں جس کی وہ خواہش کر رہا تھا اس نے اتنی بڑی ہستی کا واسطہ دیا تھا وہ ہستی جو سب کو رزق دیتی ہے اگر اس ہستی نے میرے رزق میں سے اس کا کچھ حصہ لکھ بھی دیا ہے تو اس سے کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ میں نے اسے ایک کلو قورمہ کڑاہی میں ڈال کر دے دیا اور ساتھ ہی روٹی بھی دے دیں۔ وہ مزے لے لے کر کھانے لگا جب کہ میں ایک دفعہ پھر سوچ رہا تھا کہ آج کل کے فقیر واقعی عجیب و غریب ہوتے ہیں ان کے مانگنے سے تو دکھ نہیں ہوتا مگر جو ضد کرکے اپنی مرضی کی خواہش کے مطابق مجھ جیسے ”رئیسوں“ کو اللہ کا واسطہ دے کر بہت کچھ بٹور لیتے ہیں اس پر بہت دکھ ہوتا ہے ایسے لوگ فقیر تو نہیں ہوتے لیکن عجیب فقیر ضرور ہوتے ہیں اگر کوئی انہیں غریب بھی کہہ دے تو کوئی حرج نہیں بلکہ کہنے والے کا اپنا ہی بھلا ہوگا۔

Post a Comment

0 Comments